1 اگست 2012 - 19:30

فلسطین فاؤنڈیشن کے زیراہتمام پاکستان بھر میں جاری آزادی فلسطین کانفرنسز میں شریک حزب اللہ کی القدس کمیٹی کے انچارج نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی مزاحمتی تحریک جب مزاحمت اور جہاد کے راستے کو چھوڑ دیتی ہے تو پھر اس کی افادیت بھی ختم ہو جاتی ہے، صیہونزم کا علاج صرف اور صرف جہاد اور مزاحمت سے ہی ممکن ہے کیونکہ وہ صرف مزاحمت کی زبان کو ہی سمجھتے ہیں۔

ابنا:  ان کا کہنا تھا امت مسلمہ کو اس وقت باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے، دشمن ہمیں ہمارے مذہبی و فروعاتی اختلاف کے سبب ایک دوسرے سے جدا نہیں سمجھتا  بلکہ وہ ہمارے ممالک میں کسی بھی عنوان سے ترقی اور بہتری نہیں چاہتا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم باہم متحد رہیں اور باہم مل کر اپنی بہتری اور ترقی کیلئے کوششیں کریں۔ حزب اللہ کی القدس کمیٹی کے انچارج ڈاکٹر حیدر دقماق نے بحرین میں آل خلیفہ کے خلاف  جاری عوامی تحریک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا    بحرینی انتفاضہ نے کبھی بیرونی مداخلت کو آواز نہیں دی، انہوں نے کبھی نیٹو، امریکہ یا کسی اور کو مداخلت کے لئے نہیں کہا بلکہ بحرینی انتفاضہ بحرین پر حاکم ایک خاندان کی ناانصافیوں کے خلاف آواز ہے۔ حزب اللہ کی القدس کمیٹی کے انچارج نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اس وقت شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مکمل طور پر اسرائیل کے مفاد میں ہے، شام میں جاری اس جنگ کو امریکہ چلا رہا ہے اور یہ شیطانی طاقتیں شام کی حکومت اور فوج دونوں کو تباہ کرنا چاہتی ہیں، شام میں یقینی طور پر اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن ان اصلاحات کو شام کے عوام انجام دینگے نہ کہ بیرونی مداخلت سے انجام دی جائیں۔ ان کا کہنا ہے ہیلری کلنٹن اور اسرائیلی وزیراعظم فساد کی جڑ ہیں، جن کا مقصد شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔ وہ کسی صورت شام کے عوام کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔

.......

/169